بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رویٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جولائی سے اب تک، امریکہ کی سمندری ناکہ بندی کے باوجود، مائع پیٹرولیم گیس (LPG) اور جیٹ فیول برآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، شپنگ سے متعلق معلوماتی ڈیٹا اور سمندری سلامتی کے امور سے آگاہ ذرائع کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
امریکی گروپ "جوہری ایران کے خلاف اتحاد" (UANI) ـ جو بحری جہازوں کو ٹریک کرنے کی معلومات اور سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ایران سے منسلک آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے ـ کے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی کے وسط سے اب تک، مائع پیٹرولیم گیس (LPG) لے جانے والے کم از کم آٹھ ایرانی بحری جہاز خلیجِ عمان سے نکل چکے ہیں۔
اسی طرح، سیٹلائٹ تصاویر اور سمندری معلوماتی کمپنی "سِینمیکس" (SynMax) کے تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کا جیٹ فیول لے جانے والا ایک آئل ٹینکر ستمبر میں میانمار پہنچ گیا ہے۔
حالانکہ جہازوں کے کوائف کے بارے میں روئٹرز کے جائزے اور امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائع گیس لے جانے والے آٹھ جہازوں میں سے چھ، نیز جیٹ فیول لے جانے والا آئل ٹینکر، ایران کی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی منتقلی کی وجہ سے امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
اس کے باوجود، امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ (سینٹ کام) نے اس رپورٹ کے جواب میں روئٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف اس کی ناکہ بندی "ناقابلِ عبور" ہے!
یہ ناکہ بندی، جو پہلی بار 13 اپریل کو ایران سے منسلک تیل کی برآمدات کے خلاف عائد کی گئی تھی، جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدے کے مسودے تک پہنچنے کے بعد اٹھا لیا گیا تھا؛ تاہم امریکہ نے عہدشکنی کی اپنی روایت دہراتے ہوئے اسے 14 جولائی کو دوبارہ نافذ کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ